اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کئے جانے والے مظاہرے میں شریک ہزاروں مظاہرین نے، جو اپنے ہاتھوں میں بحرین کا پرچم اور جمعیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان کی تصاویر اٹھا ئے ہوئے تھے، شیخ علی سلمان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور ملک میں جمہوری نظام حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا- آل خلیفہ حکومت کے خلاف اسی قسم کے احتجاجی مظاہرے بحرین کے مختلف دیگر علاقوں منجملہ سنابس، الدیہ اور المصلی میں بھی کئے گئے جہاں مظاہرین نے آل خلیفہ حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے- بحرین کی سیکورٹی فورسز نے بھی ماضی کی مانند مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسوگیس کا استعمال کیا- بحرین کی سیکورٹی فورسیز نے دارالحکومت منامہ کے مغرب میں مقابہ کے علاقے میں لوگوں کے گھروں پر حملہ بھی کیا- ایک اور رپورٹ میں، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحرین کی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف زہریلی گیس کا بھی استعمال کیا ہے- بحرین میں پرامن عوامی مظاہروں کی سرکوبی خاص طور سے زہریلی گیس کے استعمال کے نتیجے میں ابتک کافی تعداد میں عام شہری، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کی سرکوبی پر اندرون ملک کے علاوہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے احتجاج کی بھی، آل خلیفہ حکومت نے ابتک کوئی پرواہ نہیں کی ہے- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی اعلی کونسل کے چیئرمین "زید رعد الحسینی" نے بحرین میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا کمیشن، بعض مسائل منجملہ بین الاقوامی مبصرین کو بحرین روانہ کئے جانے کے بارے میں اس ملک کے حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا- انسانی حقوق کی نگراں تنظیم نے بھی بحرین میں انسانی حقوق کے مداقع کارکنوں اور بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کی سرکوبی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے- اس تنظیم نے گذشتہ مہینے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ بحرین کی عدالتیں فیصلے کرنے میں بالکل بھی آزاد نہیں ہیں اور ان عدالتوں نے سنہ دو ہزار چودہ میں ستّر سے زائد بحرینی انقلابیوں کو عمر قید اور دو سو سے زائد افراد کو طویل مدّت قید کی سزائیں سنائی ہیں- سنہ دو ہزار گیارہ میں جب سے اس ملک میں عوامی انقلاب اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہے، ابتک ایک سو چھیاسٹھ نہتھے افراد، آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسیز کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بحرین کے سابق رکن پارلیمنٹ اور جمعیت الوفاق کے ایک رکن "عبدالحسین المتغوی" نے بحرین کے سیاسی قیدیوں کی جاری ابتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ بحرین کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو سخت ایذائیں پہنچائی جارہی ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔
/169